رخشندہ جبیں اے نورِ نظر
اے نورِ سحر تو رشکِ قمر
اک جلوہ ہوا جو تیرا ادھر
روپوش ہوا وہ چاند ادھر
ہوتا ہو جو ہو انجامِ سفر
تو تھام لے میرا ہاتھ مگر
ہر سمت ہے تیری جلوہ گری
ہر شے پہ عیاں ہے تیرا ہنر
گلشن نے جو اوڈھی تیری رضا
پھولوں نے کِۓ ہیں چاک جگر
سر سر کی ہوا اے باد صبا
آغوش میں آ تو آ کے ٹھہر
عشیار کیا لکھیں تیری ثنا
رکساں ہے تم ہی سے بزمِ دہر

0
6