ملاقات کا اس نے وعدہ کیا ہے
درِ لطف مجھ پر کشادہ کیا ہے
حجاب اس نے رخ پر جو آدھا کیا ہے
یوں حُسن و جمال اپنا زیادہ کیا ہے
چھپائے ہیں ساقی نے ساغر لبوں کے
مگر چشم سادہ کو بادہ کیا ہے
پیامِ محبت ترے دل میں اترے
سو ہر شعر تحریر سادہ کیا ہے
بھلانے کو رنج و الم اس جہاں کے
ترے پیار سے استفادہ کیا ہے
لکھی اس کے نامے میں جاتی ہے نیکی
بھلائی کا جس نے ارادہ کیا ہے
کبھی تو ملے گی سحاب اس کی منزل
جو طے عشق کا ہم نے جادہ کیا ہے۔

21