یہ مانا
تمہارے حسن کے چرچے
چاروں دانگِ عالم ہیں
تمہاری آنکھ ہرنی سی
تمہارے دانت موتی ہیں
تمہاری زلف سے اکثر
ٹپکتے ہیں نرالے رنگ
کہ جن رنگوں سے بادل بھی
بناتے ہیں دھنک اپنی
تمہاری مسکراہٹ کو
چراتے ہیں چمن کے گل
کہ جن پھولوں کی خوشبو سے
مہکتا ہے جہاں سارا
یہ مانا
تمہارے عشق سے گھائل
ہزاروں منچلے ہوں گے
کہ جن کی سوچ کا محور
تمہارے حسن کا جادو
انہیں پاگل بناتا ہے
تمہارے پاس لاتا ہے
مگر میں بھی تو شامل ہوں
انہی مدہوش لوگوں میں
جو تمہارے حسنِ دلکش کے
شیدائی ہیں سودائی ہیں
ناجانے کون ہو گا وہ
جو تمہاری سوچ کے رستے
تمہارا لمس پائے گا
تمہیں اپنا بنائے گا
ہیں میرے پاس لفظوں کے
ذخائر تو بہت جاناں
مگر تمہیں جب پاس پاتا ہوں
میں سارے بھول جاتا ہوں
الغرض
مجھے اتنا تو کہنے دو
مجھے تم سے محبت ہے

181