مجھے بنایا گیا ہے جہان کا وارث
زمیں سے تابہ نظر آسمان کا وارث
سند ملی ہے خلافت کی امتیاز کے ساتھ
فقط نہیں ہوں  میں نام و نشان کا وارث
نکل کے باغ ارم سے اداس رہتا ہوں
یہ عکس جس کا ہے، ہوں اس مکان کا وارث
 یہ بازیافت مرا کھیل ہے وگرنہ میں
بدونِ علم نہیں ہوں  جہان کا وارث
چراغِ قلب و نظر ، رہنما ہیں میرے لیے
بس ایک میں ہوں اس ارمغان کا وارث

0
6