دل مچلتا ہے مرا جنت کا ٹکڑا دیکھ کر
یعنی سرکارِ دو عالم کا وہ روضہ دیکھ کر
سبز گنبد کی تجلی ہے نگاہوں میں سجی
جھوم اٹھتا ہوں میں گنبد کا نظارہ دیکھ کر
چاند دو ٹکڑے ہوا سورج بھی پیچھے پِھر گیا
آمنہ کے لاڈلے کا اک اشارہ دیکھ کر
آپ سے جبریل پوچھے ختم کردوں کیا انہیں
وادئِ طائف میں اک دن خون بہتا دیکھ کر
رب کے آگے سجدے میں گر جائیں گے پیارے نبی
ہم گنہگاروں کو محشر میں تڑپتا دیکھ کر
میرے ہونٹوں کو فرشتے چومنے لگ جاتے ہیں
میرے ہونٹوں پر نبی کا ذکر آتا دیکھ کر
نعت کو گانوں کے دھن میں تو نہ پڑھ یونسؔ میاں
ایسے پڑھ کے سارے جھومے تیرا پڑھنا دیکھ کر

0
34