| حادث کو کیا خبر کہ اُسی میں قِدم رہے |
| رکھتا ہے جو خبر، وُہی پیرِ مَنم رہے |
| یادوں کا سِلسلہ ہے یہ آہ و کَراہ بھی |
| جس کو کرے وہ یاد اُسے رنج و غم رہے |
| جیسے رکھے وہ یار، اُسی حال میں رہوں |
| بندہ رہوں میں یار کا، چاہے سِتم رہے |
| میں نے سَجائی آنکھ میں تصویر آپ کی |
| دیکھوں جدھر بھی آپ کی صُورت بَہم رہے |
| گردن جُھکی جُھکی ہے مِری، یار اس لیے |
| ہر دم مِری رِکاب پہ تیرا قَدم رہے |
| مجھ کو غرض نہیں ہے حُور و قصور سے |
| بس میکدے میں ساقی شرابِ اِرم رہے |
| رازِ فنا بقا کو میں سمجھا ہوں اِس طرح |
| باقی رہے وہ یار، کہ مُجھ پر عَدم رہے |
| میرا نِشاں رہے نہ رہے، بس وُہی رہے |
| اُس یارِ باکمال کا جاہ و حَشم رہے |
| مُجھ کو بقا ملے نہ ملے، اُس کی رضا ملے |
| راضی وہ مُجھ سے یار ہزاروں جَنم رہے |
| سوئے بقا چلوں کہ میں راہِ عدم چلوں |
| دونوں جہاں میں آپ کا مُجھ پر کرم رہے |
| مَر مٹ گیا غلؔام اِسی چاہ میں مگر |
| زندہ ہے اِس کی رُوح کہ وصالِ صَنم رہے |
معلومات