کسی کے خواب میں شامل صدا بھی ہوتی ہے
کسی کی خامشی صَرفِ دعا بھی ہوتی ہے
ہُوا ہے پہلے بھی ہوتا ہے آج بھی ایسا
قبول دل کی دعا بے نوا بھی ہوتی ہے
ہم اپنے دکھ کو زمانے سے کم نہیں کہتے
کہ مسکراہٹوں میں اک ادا بھی ہوتی ہے
جو ایک لمحہ مُیسّر ہو اہلِ دل کے لیے
اُس ایک لمحے میں دستک سِوا بھی ہوتی ہے
نئے خیال کے صحرا میں چلنے والوں کو
کڑی سی دھوپ بھی ٹھنڈی ہوا بھی ہوتی ہے
وہی تو لوگ حقیقت سے آشنا ٹھہرے
جنہیں شکست رُخِ حوصلہ بھی ہوتی ہے
کبھی تو لفظ سے آگے چلے سفر اپنا
کبھی نگاہ میں پوری نوا بھی ہوتی ہے
نہ صرف جسم خیالوں کے در بھی کھلتے ہیں
محبتوں میں کوئی انتہا بھی ہوتی ہے
ہیں دیکھے ہم نے زمانے کے رنگ سب طارِق
ہر ایک جیت میں تھوڑی قضا بھی ہوتی ہے

0
5