| چھوڑ غفلت کام کچھ اچھا ارے نادان کر |
| اک سفر در پیش ہے اسکا بھلا سامان کر |
| روک پائیں گے نہ ہرگز اجنبی جنگل اسے |
| لوٹ آئے گا پرندہ پھر شجر پہچان کر |
| کون کتنا ساتھ دے گا یہ بھی تو پھر جان لے |
| برف کا اک گھر بنا سورج کو پھر مہمان کر |
| شام کا منظر لیے آنکھوں میں پھر جانیں کہاں |
| اک غزل اپنے لیے لکھ درد کا عنوان کر |
| ہو گئی ہلچل مرے دل میں وہاں مقصود پھر |
| آ گیا جب روبرو قاتل مجھے پہچان کر |
معلومات