چھوڑ غفلت کام کچھ اچھا ارے نادان کر
اک سفر در پیش ہے اسکا بھلا سامان کر
روک پائیں گے نہ ہرگز اجنبی جنگل اسے
لوٹ آئے گا پرندہ پھر شجر پہچان کر
کون کتنا ساتھ دے گا یہ بھی تو پھر جان لے
برف کا اک گھر بنا سورج کو پھر مہمان کر
شام کا منظر لیے آنکھوں میں پھر جانیں کہاں
اک غزل اپنے لیے لکھ درد کا عنوان کر
ہو گئی ہلچل مرے دل میں وہاں مقصود پھر
آ گیا جب روبرو قاتل مجھے پہچان کر

0
5