درودِ نبی میں جو دل شاد ہے
وہ زندہ ہے وللہ وہ آباد ہے
نبی کی غلامی میں ہے چاشنی
محبت نبی پہلے بنیاد ہے
خدایا ہو محبوب سنت نبی
جو بردہ ہے اُن کا وہ آزاد ہے
حسیں سبز گنبد ہے قبلہ نما
مدینے سے دیں کو سدا داد ہے
غلامی میں اُن کی میں دائم رہوں
اے قادر یہ عاجز کی فریاد ہے
مدینہ مدینہ پکارے یہ دل
حسیں شہر نوری کی ہر یاد ہے
اے محمود رختِ سفر باندھ لے
مدینے میں جنت بھی آباد ہے

1
6
خلاصہ:
یہ نعتِ رسولِ اکرم ﷺ درود و محبتِ نبوی، غلامیِ رسول ﷺ، اتباعِ سنت، مدینہ منورہ کی عقیدت اور شوقِ زیارت کے جذبات کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کے نزدیک درودِ نبی ﷺ دل کی زندگی، خوشی اور روحانی آبادی کا ذریعہ ہے، جبکہ محبتِ رسول ﷺ ایمان و زندگی کا بنیادی پہلو ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی اور دائمی غلامیِ رسول ﷺ کی توفیق مانگتا ہے۔ نعت میں سبز گنبد، مدینہ منورہ اور اس کی نورانی یادوں کو عقیدت کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ آخر میں شاعر اپنے تخلص محمود کو مخاطب کرتے ہوئے مدینے کی طرف سفر کی آرزو کرتا ہے اور مدینہ کو ایسی بابرکت سرزمین کے طور پر پیش کرتا ہے جہاں جنت کی سی روحانی بہار اور آبادانی محسوس ہوتی ہے۔

مرکزی پیغام:
محبت و درودِ رسول ﷺ دل کی حقیقی زندگی ہے، سنت و غلامیِ رسول ﷺ سعادت ہے، اور مدینہ منورہ عاشقِ رسول ﷺ کے لیے سب سے محبوب روحانی منزل ہے۔

0