ہم نے جھومر کی طرح ماتھے پہ سجائے رشتے
چاک سینہ تھا مگر سینے سے لگائے رشتے
ہم صداؤں پہ صدائیں دیے جاتے تھے انہیں
اور ایک وہ تھے کہ پیروں میں بچھائے رشتے
ہم نے تیز طوفاں میں بھی ہر ہاتھ کو تھامے رکھا
ہم نے پت جھڑ میں ہواؤں سے بچائے رشتے
ہم تو اس طور سے قرباں ہوئے ہیں سب پر
روح نکلتے ہوئے کہتی تھی کہ ہائے رشتے

0
1