| کرے لپیٹ میں جو ہم کو جوش، عِطر فروش |
| خرد نہ کام میں آئے نہ ہوش عِطر فروش |
| ہے تیرے عطر کی مہکار کی لپیٹوں میں |
| کچھ ایسا کیف، ہؤا سرفروش، عطر فروش |
| ہمارے گاؤں میں اک شخص شیشیاں لے کر |
| صدائیں دیتا پھرے (بادہ نوش)، عطر فروش |
| مرا وجود خرابہ، غِلاظتوں کا ڈھیر |
| ترے نقوش، ترے چشم و گوش، عطر فروش |
| اسے تو فصلِ بہاراں بھی راس آئی نہیں |
| کہیں نہ آئے ترے سر پہ دوش، عطر فروش |
| حرارتوں کا اثر اس پہ کچھ نہیں ہو گا |
| تمام عمر رہا برف پوش، عطر فروش |
| مہک دریچوں سے خوشبو نے وار ڈٹ کے کیے |
| رشیدؔ بیٹھا رہا ہے خموش، عطر فروش |
| رشید حسرتؔ، کوئٹہ |
| ۱۱ مئی، ۲۰۲۶ |
معلومات