| بگڑی ہوئی بنتی ہے ہر بات مدینے میں |
| بٹتی ہے کرم کی وہ سوغات مدینے میں |
| عصیاں سے بھرے دامن دھلتے ہیں وہاں جا کر |
| رحمت کی چھما چھم ہے برسات مدینے میں |
| عالم کی بھلائی تو تقلید میں ہے ان کی |
| ہے اسوہٴ کامل کی وہ ذات مدینے میں |
| طیبہ میں سکونت ہو بس اتنی تمنا ہے |
| خدمت میں مرے گزریں دن رات مدینے میں |
| بس فیض پہ ہو جائے اک نظر کرم آقا |
| سرکار پڑھوں آ کر اک نعت مدینے میں |
| فیض رسول فیض |
معلومات