مولا یوں زندگی میں پختہ قرار ہو
اُن کے غلاموں میں ہی میرا شمار ہو
عشقِ حبیب میں دے نفحاتِ زندگی
یادِ نبی سے یہ دل باغ و بہار ہو
ذکرِ نبی سے چلتی ساری حیات ہے
جب وقت آئے یہ جاں اُن پر نثار ہو
ممنون ہوں خدایا تیری یہ نعمتیں
مانگوں کہ دفن ہو جب اُن کا دیار ہو
بارِ دگر خدایا منظر حسیں دکھا
جالی ہو سامنے اور یہ اشک بار ہو
راہیں تمام میری آسان ہوں خدا
منزل حسیں مدینہ ہو بار بار ہو
بابِ کریم سے ہی وابستہ میں رہوں
محمود اُن کے گلشن یہ خاکسار ہو

0
1
5
مجموعی پیغام

یہ کلام ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ کے دل کی دعا ہے۔ شاعر دنیا کی ہر نعمت سے بڑھ کر حضور ﷺ کی محبت، مدینۂ منورہ کی حاضری، اور دربارِ نبوی ﷺ سے وابستگی چاہتا ہے۔

یہ نعت یہ پیغام دیتی ہے کہ دل کی اصل بہار ذکرِ رسول ﷺ میں ہے، اور انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کی زندگی اور موت دونوں محبوبِ خدا ﷺ کی نسبت سے وابستہ ہوں۔

0