| مولا یوں زندگی میں پختہ قرار ہو |
| اُن کے غلاموں میں ہی میرا شمار ہو |
| عشقِ حبیب میں دے نفحاتِ زندگی |
| یادِ نبی سے یہ دل باغ و بہار ہو |
| ذکرِ نبی سے چلتی ساری حیات ہے |
| جب وقت آئے یہ جاں اُن پر نثار ہو |
| ممنون ہوں خدایا تیری یہ نعمتیں |
| مانگوں کہ دفن ہو جب اُن کا دیار ہو |
| بارِ دگر خدایا منظر حسیں دکھا |
| جالی ہو سامنے اور یہ اشک بار ہو |
| راہیں تمام میری آسان ہوں خدا |
| منزل حسیں مدینہ ہو بار بار ہو |
| بابِ کریم سے ہی وابستہ میں رہوں |
| محمود اُن کے گلشن یہ خاکسار ہو |
معلومات