| لفظ تو آئے مرے لب پہ ملاقات کے بعد |
| بڑھ گیا اس کا کرم دل کی مناجات کے بعد |
| اپنی آواز بھی پہچان میں آئی نہ مرے |
| اتنی خاموش ہوئی بزم مری ذات کے بعد |
| جس نے خوشبو کی طرح درد لٹایا ہر سو |
| مندمل زخم ہوئے اُس کی کرامات کے بعد |
| لوگ دیوار اٹھاتے رہے نفرت کی مگر |
| پیار زندہ ہی رہا ان کی خرابات کے بعد |
| میں نے دریا سے یہی ایک سبق سیکھا ہے |
| راستہ بنتا ہے پتھّر سے ملاقات کے بعد |
| اپنے سائے سے بھی اک عمر گریزاں میں رہا |
| خود سے ملنا ہوا ممکن کئی صدمات کے بعد |
| وقت نے چھین لیے رنگ تو حیرت کیسی |
| پھول مہکے بھی تو ہیں آنکھ کی برسات کے بعد |
| دل کے ویران نگر میں یہی اک سچ نکلا |
| کہ سحر ہوتی ہے اک لمبی سیہ رات کے بعد |
| اہلِ دل نے یہی سکھلایا ہے طارِق ہم کو |
| ذائقہ تلخ ہوا سچی کسی بات کے بعد |
معلومات