| حیائے حسن سے رخ آب آب ہونے میں |
| قصورِ چشم ہے میک اپ خراب ہونے میں |
| جبینِ دوست کو دیکھا تو مجھ پہ راز کھلا |
| گنوایا وقت عبث ماہتاب ہونے میں |
| بہت سے قیمتی احساس خاک ریز ہوئے |
| کسی گریز کنندہ کا خواب ہونے میں |
| دکھائی دے تو بہت واضح فرق ہوتا ہے |
| خموش رہنے میں اور لاجواب ہونے میں |
| کسی کو شک ہے تو ہم سے مکالمہ کر لے |
| محبتوں کے ضروری نصاب ہونے میں |
| یہ کچھ دنوں کی مشقت نہیں اے جانِ سخن |
| لگی ہے عمر مجھے خوابیاب ہونے میں |
| مت اس کو سہل سمجھیے کہ عمر لگتی ہے |
| عذابِ آگہی کا سدِ باب ہونے میں |
| قمرآسیؔ |
معلومات