رُت ہے آئی نَظر مِلانے کی
کیا ضرورت کسی بَہانے کی
بَن سَنْور کے وہ آئے بیٹھے ہیں
عید ہے آج آشیانے کی
کہہ رہے ہیں سُناؤ حالِ دل
بات بُھولے سَبھی سُنانے کی
کیا کروں پیش اُن کے آنے پر
رَہ گئی جان بس لُٹانے کی
شہرِ دل کو جَلا کے بولے وہ
چیز لاؤ نئی جَلانے کی
خُود بتا کر مُجھی سے کہتے ہیں
کیوں بتائی جو تھی چُھپانے کی
عَکس اُن کا ہی مانگ لایا ہوں
میری صورت نہیں دِکھانے کی

0
9