| رُت ہے آئی نَظر مِلانے کی |
| کیا ضرورت کسی بَہانے کی |
| بَن سَنْور کے وہ آئے بیٹھے ہیں |
| عید ہے آج آشیانے کی |
| کہہ رہے ہیں سُناؤ حالِ دل |
| بات بُھولے سَبھی سُنانے کی |
| کیا کروں پیش اُن کے آنے پر |
| رَہ گئی جان بس لُٹانے کی |
| شہرِ دل کو جَلا کے بولے وہ |
| چیز لاؤ نئی جَلانے کی |
| خُود بتا کر مُجھی سے کہتے ہیں |
| کیوں بتائی جو تھی چُھپانے کی |
| عَکس اُن کا ہی مانگ لایا ہوں |
| میری صورت نہیں دِکھانے کی |
معلومات