وہ جو اک شخص مرے دل میں بسا رہتا ہے
دور رہ کر بھی مرے پاس سدا رہتا ہے
ہم نے مانا کہ محبت میں خموشی ہے مگر
چُپ کے سنّاٹے میں بھی نُطقِ وفا رہتا ہے
تیری یادوں کا عجب رنگ ہے شامِ ہجراں
درد بڑھتا ہے مگر زخم ہرا رہتا ہے
وہ نظر بھر کے جو دیکھے تو بدل جائے جہاں
وہی اک لمحہ تو صدیوں میں ڈھلا رہتا ہے
کون کہتا ہے بھلا دیتے ہیں اہلِ الفت
عشق مٹتا نہیں بس دل میں چھپا رہتا ہے
ہم نے کب راز کی مانند چھپایا ہے اسے
یوں بھی ہر شخص کو اس کا تو پتہ رہتا ہے
وقت کرتا ہے جدائی کے بہت حیلے مگر
دل کا رشتہ تو ازل سے ہی جڑا رہتا ہے
طارِق اس عشق کو آسان سمجھنا نہ کبھی
یہ وہ دریا ہے جو خاموش بہا رہتا ہے

0
4