دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے چور نہیں
ہے دوش میرا، ترا کوئی بھی قصور نہیں
ملے گی داد بھی تنقید بھی تو ہو گی میاں
جو نیک مشورہ دیتا ہے اس کو گُھور نہیں
بٹھایا کس نے تمہیں مسندِ صدارت پر
وہ جس کو خود بھی ابھی شعر کا شعور نہیں
بہت سے شعر تھے اچھے تو کچھ برے بھی تھے
منانا سچ کا کبھی تم برا حضور نہیں
یہ اور بات کہ چپ چاپ ہم تھے ایک طرف
پکڑ پہ آئیں تو فن آپ کا بھی دور نہیں
وہ جس نے اپنے بزرگوں کو روند ڈالا ہے
وہ نہرِ فن کو کبھی کر سکا عبور نہیں
یہ بات یونہی نہیں کی ہے کچھ ثبوت بھی ہے
چمکنے والے سبھی چہرے پاک نور نہیں
سبھی پجاری ہوئے آج اجلے چہروں کے
کہیں پہ موسیٰؔ نہیں ہے، کہیں پہ طورؔ نہیں
پڑھے جو شعر مرے سب کو موت چاٹ گئی
رشیدؔ دل سے نکالا، رکھا فُتُور نہیں
رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۰۴ اپریل، ۲۰۲۶
Rasheedhasrat199@gmail.com

0