شروع ہی کب ہوا تماشا ابھی تو پردہ پڑا ہوا ہے
ابھی تو مشکل پڑی نہیں ہے ابھی سے کھٹکا لگا ہوا ہے
ابھی تو راہِ وفا میں پہلا قدم بھی تیرا نہیں پڑا ہے
ابھی سے ہی تو ہے کیوں گریزاں ابھی تو درد آشنا ہوا ہے
تمام شب جس کی روشنی سے کیا گیا خوب استفادہ
ہوئی سحر تو وہ ہم نے دیکھا چراغِ دل ہی بجھا ہوا ہے
تمہاری یادوں کی تیرگی میں بہے ان آنکھوں سے اتنے آنسو
کہ ان ستاروں کی روشنی سے فلک یہ سارا سجا ہوا ہے
پئیں تو کب تک ہم اپنے آنسو جو کھائیں غم تو کہاں تلک اب
نہیں ہے سینے میں صرف دل ہی کہ پیٹ بھی تو لگا ہوا ہے
پتہ چلے گا یہ مر کے ہی تو کہاں کی آگے مسافتیں ہیں
ابھی تو ہر سو ہی رونقیں ہیں ابھی تو میلہ لگا ہوا ہے
کمال تم نے بڑا کیا کیا رہِ وفا میں لٹا کے سب کچھ
ابھی کہاں قرض سر سے اترا ابھی کہاں حق ادا ہوا ہے
چمن میں بلبل چہک رہی ہے پتنگا جل عشق میں رہا ہے
کلی پہ بھنورا مچل رہا ہے زمیں پہ بادل جھکا ہوا ہے
خطاب کیا کیا کہ دے رہے ہو بگاڑتے نام جارہے ہو
پکارو جس نام سے بھی چاہو کہ نام میں کیا رکھا ہوا ہے
یہ زندگی جہد ہے مسلسل شبانہ روز اس میں دیکھۓ تو
نئی مصیبت ہے پیش کوئی نیا کوئی گل کھلا ہوا ہے
اگرچہ سجدہ تجھے کیا ہے تمام تر ہی ملائکہ نے
غرور اس پر مگر نہ کرنا تجھے جو منصب ملا ہوا ہے
کئی بہاریں گزر گئی ہیں زمانہ آگے کو بڑھ گیا پر
بچھڑ گۓ تم تھے جس بھی پل میں وہ وقت ابتک رکا ہوا ہے
ہزار کوشش تو کر لے بندے ہزار کر لے جتن اے ناداں
ملے گا اس سے نہ کچھ زیادہ نصیب میں جو لکھا ہوا ہے
یہی قرینہ ہے زندگی کا پلٹتے محور پہ سب ہیں اپنے
تلاش اپنے ہے آشیاں کی کہ جب سے پنچھی رہا ہوا ہے
بچا لے شاید ہمیں بھی قادر کب اس کی رحمت کی انتہا ہے
وہ ایک سجدہ ہی منفعل کا جو بیخودی میں ادا ہوا ہے

0
1