روشن دلوں کو کرتا جس کا خیال ہے
کملی کے پردے میں یہ اُن کا جمال ہے
آئی ہے روشنی جو ظلماتِ دہر میں
اترے ہیں جو حرا سے اُن کا کمال ہے
شاہوں کے سر جھکے ہیں بابِ رسول پر
آقا کے آستاں میں جاہ و جلال ہے
امت پہ مصطفیٰ کی باراں ہیں کرم کے
دلبر نبی کو کہتا وہ ذالجلال ہے
ہادی حبیب رب ہیں سلطانِ دوسریٰ
ڈھونڈے نہ مل سکے جو اُن کی مثال ہے
شرمندہ جس چمک سے تارے فلک پہ ہیں
اس در سے روشنی ہے جو لا زوال ہے
خلقِ دہر سے پہلے اُن کا جمال تھا
محمود خرد سمجھے لگتا محال ہے

0
2