روشن دلوں کو کرتا جس کا خیال ہے
کملی کے پردے میں یہ اُن کا جمال ہے
آئی ہے روشنی جو ظلماتِ دہر میں
اترے ہیں جو حرا سے اُن کا کمال ہے
شاہوں کے سر جھکے ہیں بابِ رسول پر
آقا کے آستاں میں جاہ و جلال ہے
امت پہ مصطفیٰ کی باراں ہیں کرم کے
دلبر نبی کو کہتا وہ ذالجلال ہے
ہادی حبیب رب ہیں سلطانِ دوسریٰ
ڈھونڈے نہ مل سکے جو اُن کی مثال ہے
شرمندہ جس چمک سے تارے فلک پہ ہیں
اس در سے روشنی ہے جو لا زوال ہے
خلقِ دہر سے پہلے اُن کا جمال تھا
محمود خرد سمجھے لگتا محال ہے

1
9
تعارفِ کلام: نعتِ رسولِ مقبول ﷺ (از: محمود)
زیرِ نظر کلام نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کے روایتی اور ادبی محاسن کا ایک بہترین اور دلنشین امتزاج ہے۔ شاعر نے انتہائی عقیدت اور فصاحت کے ساتھ سرکارِ دو عالم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں ہدیۂ تبرک پیش کیا ہے۔مضمون اور فکری پہلو:یہ نعتِ پاک حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کے ظاہری و باطنی کمالات کا احاطہ کرتی ہے۔ مطلع میں ذکرِ رسول ﷺ سے دلوں کے منور ہونے کا تذکرہ ہے، جس کے بعد غارِ حرا سے پھوٹنے والی ہدایت کی اس روشنی کا بیان ہے جس نے کائنات کے اندھیروں (ظلماتِ دہر) کو دور کیا۔ نعت میں آپ ﷺ کی عظمت و جلال اور شاہانِ وقت کے آپ ﷺ کے در پر سرنگوں ہونے کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ کلام کا ایک منفرد اور فکری پہلو چوتھے اور مقطع کے شعر میں نظر آتا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ کی اپنے حبیب ﷺ سے محبت (دلبر کہنے) اور تخلیقِ کائنات سے بھی پہلے نورِ محمدی ﷺ کے موجود ہونے کے ازلی تصور کو انسانی عقل کی حدود سے بالا تر کر کے پیش کیا گیا ہے۔فنی و شعری محاسن:فنی نقطۂ نظر سے یہ نعت ایک نہایت رواں، مترنم اور متوازن بحر میں کہی گئی ہے۔ ردیف (ہے/تھا) اور قوافی (خیال، جمال، کمال، جلال، ذوالجلال، مثال، لازوال، محال) کا تسلسل کلام کی صوتی خوبصورتی کو بڑھاتا ہے۔ الفاظ کا انتخاب (جیسے ظلماتِ دہر، سلطانِ دوسریٰ، خلقِ دہر) کلام کو ایک خاص ادبی اور علمی وقار بخشتا ہے۔ عقیدت اور فنی پختگی سے مزین یہ نعتِ پاک سامعین اور قارئین کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کی شمع روشن کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

0