جمال یار کا جلوہ مرے خدا دیکھوں
دل فسردہ کی مقبول یہ دعا دیکھوں
گھٹا ستم کی چھٹے امن کی فضا دیکھوں
اندھیری رات کٹے صبح جانفزا دیکھوں
دلوں کو زخم لگانا تو کوئی بات نہیں
شکستہ دل کو کبھی جوڑ کر دکھا، دیکھوں
شب فراق میں ہر سو ترے ہی جلوے ہیں
جدھر نگاہ اٹھے تجھ کو جا بجا دیکھوں
جو فعلِ بد تھا وہی وجہِ افتخار ہوا
نہ جانے اور ابھی زندگی میں کیا دیکھوں
عجب نہیں کہ نہ اٹھے نظر کسی کی طرف
اسے جو دیکھ لیا اس کے بعد کیا دیکھوں
اب آبھی جاؤ کہ سب بندِ ضبط ٹوٹ چلے
میں کرکے دیدہ و دل فرشِ رہ کھڑا دیکھوں
ہے اب تو قلب حزیں میں بس ایک ہی حسرت
کبھی تو میں بھی ترا حسنِ دلربا دیکھوں
اثر جو میری دعاؤں میں ناز ہو جائے
میں خود کو یار کی دہلیز پر پڑا دیکھوں
شاعر: نجیب الرحمٰن ناز

0
2