ایوانِ حکومت کے در و بام ہلا دو
سر اپنے کفن باندھ کے ہنگامہ مچا دو
جس ملک کا دستور نہ دے پائے تحفظ
اُس ملک کے دستور کا ہر صفحہ جلا دو
ہم نے ہی بٹھایا تھا حکومت پہ جنھیں آج
وہ پوچھتے ہیں کون ہو تم یہ تو بتا دو
مالی ہو چمن کے تو کرو سب سے محبت
ہر پھول سے، ہر رنگ سے گلشن کو سجا دو
انگڑائیاں لے کر جو نئی نسل اٹھی ہے
اس نسل کے سینوں میں دبی آگ بڑھا دو
یہ وہ ہیں جو طوفانوں کا رخ موڑیں گے زاہد
یہ تم سے نہیں ہوگا کہ تم ان کو مٹا دو

0