| میں تم کو بھی یوں محبت میں ڈھال سکتا ہوں |
| خیالِ دل میں نیا رنگ اُبھار سکتا ہوں |
| اگر تمہارا اشارہ ذرا سا مل جائے |
| میں خشک شاخ پہ موسم اُتار سکتا ہوں |
| وفا کے حرف مری روح میں اتر جائیں |
| وفاؤں کو نئے رنگوں میں ڈھال سکتا ہوں |
| یہ اور بات کہ قسمت نے ساتھ کم ہی دیا |
| میں ہر ستم کو بھی ہنس کر سنبھال سکتا ہوں |
| اندھیری رات بھی آخر شکست کھائے گی |
| میں اپنے لفظوں سے سورج اُبھار سکتا ہوں |
| جو میرے دل کو سمجھ لے وہ جان جائے گا |
| میں ایک اشک سے دریا نکال سکتا ہوں |
| مرے لیے یہ ہنر کچھ نیا نہیں ساگر |
| میں اپنے درد کو لفظوں میں ڈھال سکتا ہوں |
معلومات