کرتی ہے سینہ روشن مدحت حبیب کی
آراستہ کرے دل الفت حبیب کی
خلقِ خدا میں جگمگ جانِ بہار سے
جانانِ دو جہاں ہے چاہت حبیب کی
مفقود اس دہر میں اُن کی مثال ہے
رکھی خدا نے یکتا خِلقت حبیب کی
کونین کا ہے مبدا نورِ محمدی
جبریل کو ہے بھاتی خدمت حبیب کی
آفاق میں ہیں جاری نغماتِ مصطفیٰ
کونین میں سوا ہے عزت حبیب کی
نورِ نبی سے تاباں حسن و جمال ہیں
زینت دے خلقِ رب کو رحمت حبیب کی
محمود کبریا بھی تھا انتظار میں
دیکھی بلا کے اُس نے صورت حبیب کی

0
1
5
اس نعت شریف میں تین بنیادی موضوعات بیان ہوئے ہیں:
رسول ﷺ کا نور اور حقیقتِ محمدیہ
آپ ﷺ کی سیرت جو انسان کو جنت کے راستے پر لے جاتی ہے
آپ ﷺ کے اخلاق اور صفات جو پوری کائنات کے لیے رحمت ہیں
یہ مضامین اسلامی روحانی ادب کے بڑے شعرا اور علما نے صدیوں سے بیان کیے ہیں، جیسے:
Jalal al-Din Rumi
Ibn Arabi
Abd al-Rahman Jami
Fariduddin Attar
اور ان سب کی تحریروں میں یہی پیغام ملتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی محبت دل کو نور، سکون اور معرفت عطا کرتی ہے۔

0