| دن بھر سب کے دکھ سنتے ہیں، سب کو ہنسنا سکھلاتے ہیں |
| رات گئے جب گھر آتے ہیں، خود سے نظر چراتے ہیں |
| جن کی خاطر اپنے حصے کے سارے خواب بھلاتے ہیں |
| وہ بھی ہم سے ملتے ہیں تو اپنے حق جتلاتے ہیں |
| لوگوں کی الجھن سلجھاتے، سب کو رستہ دکھلاتے ہیں |
| اپنی باری آ جاتی ہے، خود بھی ٹھوکر کھاتے ہیں |
| بچپن میں جو خواب سجائے، اب ان سے کتراتے ہیں |
| بچے ہم سے پوچھیں تو ہم ہنس کر بات چھپاتے ہیں |
| برسوں بعد پرانے گھر میں بچپن ڈھونڈنے جاتے ہیں |
| دیواروں پر قد کے نشاں سے باتیں کر کے آتے ہیں |
| جن سے مل کر جی اٹھتے تھے، اب ان سے گھبراتے ہیں |
| جانے کتنے بوجھ پرانے ساتھ لیے گھر آتے ہیں |
| شاہدؔ ہم بھی وقت کے ہاتھوں کتنے رنگ بدلتے ہیں |
| جن باتوں پر ہنستے تھے، اب ان پر آنسو آتے ہیں |
معلومات