| ہر ستم کر کے ، نبھانے والی |
| عادتیں سب ہیں زمانے والی |
| ہر طرف دیکھو ہے مقتل برپا |
| اور دعا شہر بسانے والی |
| ڈوب جانے کا ہے خطرہ لاحق |
| رت نہیں اشک بہانے والی |
| آخری کرتے ہیں کوشش مل کے |
| گھر کو محفوظ بنانے والی |
| ان خداؤں کو گراں گزرے گا |
| تم کرو بات لبھانے والی |
| رسی پر بھی ہیں لرزتے قطرے |
| ہر خبر اب ہے چھپانے والی |
| دھوپ سورج کی برستی ہے گر |
| صبح ہے آگ لگانے والی |
| اپنی رو میں نہیں لکھتا شاعر |
| ہے غزل آنکھ چرانے والی |
| چھپ گئی دور افق میں لڑکی |
| اک پراندہ سا سجانے والی |
| اب نہیں ملتی محبت یارو |
| دشت میں مٹنے مٹانے والی |
| کھو گئی ہے کہاں ممتا شاہد |
| قصے پریوں کے سنانے والی |
معلومات