تو مجھ سے دور ہو کے بھی میرے قریب ہے
کیوں فاصلہ ہو تجھ سے تو میرا حبیب ہے
آکاش سے زمین ملا کرتی ہے جہاں
وہ جا تلاشتا ہے؟ یہ دل بھی عجیب ہے
تیری ستم ظریفی سے یہ دل اداس ہے
تو جس پہ مہرباں ہے وہ میرا رقیب ہے
کیسے علاجِ غم ہو مجھے بھی پتا چلے
جب غم ہی روگ ہے مرا غم ہی طبیب ہے
پہلو نشیں رہے ترے منزل وہ پا گۓ
تو ہم سفر ہے جسکا وہی خوش نصیب ہے
جو کچھ لکھا ہے اسکے تصور کی دین ہے
عشیار کیسا ہے کوی کیسا ادیب ہے

0
10