شب بھر دل سے غم کا بوجھ اتارا کرنا
پھر ایسا کرنا کچھ روز گزارا کرنا
دل گھبرائے تو لہروں کا کنارے پر سے
تم تنہا گم سم چپ چاپ نظارا کرنا
لازم ہے موجوں سے ربط بنا کر رکھنا
دریا میں جب بھی کشتی کو اتارا کرنا
اب تیرے جانے کے بعد سڑک پر جا کر
عادت بن گئی تجھ کو روز پکارا کرنا
ایسے مت دیکھو تم شک کی نگہ سے مجھ کو
جاں حاضر کر دوں گا ایک اشارا کرنا
تم نے ٹھان رکھا ہے ہر محفل میں ساغر
ہر جائی کہہ کہہ کر ذکر ہمارا کرنا

0
145