| یہ ہوش و خرد یہ دل قدمِ نبی میں بچھا بچھا کے کہیں |
| “ بلائیں کبھی تو در پہ ہمیں “ نگاہیں جھکا جھکا کے کہیں |
| ۔ |
| فدا ہیں تمھارے ، سرمۂ خاکِ طیبہ لگا لگا کے کہیں |
| لبوں پہ سجا تمھارا ہی نام ، اشک بہا بہا کے کہیں |
| ۔ |
| ہماری دوا کوئی تو کرے ، کہیں تو سکوں عطا ہو ہمیں |
| فگارِ عطائے اہلِ دؤل، نبی کو دکھا دکھا کے کہیں |
| ۔ |
| سجو کہ ہے آج عازمِ لامکاں وہ حبیبِ ربِّ جہاں |
| وہ حور و ملک یہ باغِ جناں ، فلک کو سجا سجا کے کہیں |
| ۔ |
| رسول و نبی امامِ رسل کو آج کریں ادب سے سلام |
| “و نحنُ فی اقتِداءِ حبیب” صف وہ بنا بنا کے کہیں |
| ۔ |
| براق کو آرزو یہ کہ لوں ، بناز میں بوسۂ قدمین |
| “فداکَ فداکَ “ کیف ، نبی کی نعل اٹھا اٹھا کے کہیں |
| ۔ |
| وہ باغِ جناں یہ رونقِ کن فکاں گلِ انبیا سے سجے |
| وہ کم ہے خدا سے ، خلقِ خدا سے اس کو بڑھا بڑھا کے کہیں |
| ۔ |
| مدینے سے لے چلو نِعمِ بہشت کی تم بہارِ کرم |
| فلک سے ملک ہمیں درِ مصطفی پہ بلا بلا کے کہیں |
| ۔ |
| امان یہاں پہ ہاں ہے امان صرف یہاں بروز جزا |
| بدوں کو شفیع ظلِّ مزمّلی میں چھپا چھپا کے کہیں |
| ۔ |
| وہ لوگ ہیں مبتلائے عناد ان پہ خدا کرے ہے عذاب |
| جو رفعتِ شاہِ کون و مکاں حسد میں گھٹا گھٹا کے کہیں |
| ۔ |
| کبھی جو گدا امیرِ حرم کے روضۂ پاک پر پہنچیں |
| طبیبِ امم کو پھر غمِ دل وہ اشک بہا بہا کے کہیں |
| ۔ |
| فراق کی لذّت اپنی جگہ مگر ہے ہمیں بھی دید کا شوق |
| غلامِ کرم کے دل کا پیام ان کو سنا سنا کے کہیں |
معلومات