مولا عطا سے تیری یہ دل ثنا کرے
پھر خیر مانگے سب کی سب کا بھلا کرے
ذکرِ نبی سے آئیں اس دل میں رونقیں
اس سے جو نور آئے سینہ ضیا کرے
بابِ نبی پہ مانگوں مولا سے حاضری
ہے بے نیاز داتا جیسے عطا کرے
اُن پر درود دائم مولا سے ہیں سدا
کونین عشقِ جاں میں صلے علیٰ کرے
جب روبرو ہوں میرے وہ جالیاں حسیں
سائل تجھے قسم جو اونچی صدا کرے
وہ جانتے ہیں من میں تیرے جو ہے نہاں
یہ کہہ دو دل سے ذکرِ نورِ ہدیٰ کرے
راضی رہو رضائے دلبر پہ ہر گھڑی
پھر دم نہ مارو آگے جیسے خدا کرے
گر مانگیں جان دے دو خاطر حبیب کی
یہ یاد رکھے من بھی مت چوں چرا کرے
محمود تیری منزل سرکار کی گلی
تیرے لئے دعا ہے مولا عطا کرے

0
2