| ائے بَشَر ذَرا مجھ کو یہ بتا، کیا تجھے ملا دُوسْرا کوئی |
| دستِ کِبْرِیا نَفْسِ مُصْطَفیٰ، شاہِ لافَتیٰ دُوسْرا کوئی |
| بَنْدَۂ خُدا مُسْکُرا گیا، سُن کہ یہ کہا مجھ سے بارہا |
| اِس جہان میں آیا ہے نہیں، مثلِ مُرتَضیٰ دُوسْرا کوئی |
| ہاں مگر یہی قُدرتِ خُدا، نورِ مصطفیٰ سے جہاں بنا |
| ابتدا نبی انتہا علی، ہے نہ واسطہ دُوسْرا کوئی |
| جس نے بھی پیا جامِ ہل اتیٰ، اُس کو مل گئی راہِ کبریا |
| مے شراب کا اب نشا نہیں، چاہے تو پِلا دُوسرا کوئی |
| عرشِ کبریا پر وِصال تھا، طرزِ مرتضیٰ میں کلام تھا |
| گفتگو ہوئی تو پتا چلا، ہے یہ ماجرا دُوسرا کوئی |
| جِبْرَئِیل نے آ کے یہ کہا، بول دیں اِنھیں مرضیٔ خُدا |
| گر نہ کر سکے کام یہ نبی، کچھ نہیں کیا دُوسْرا کوئی |
| فکر ہو نہیں آپ کو نبی، شر فساد سے اور نِفاق سے |
| کہہ رہا ہے یہ آپ سے خدا، پاسْباں ہے کیا دُوسْرا کوئی |
| سب کو لے چلے دشت میں نبی، اور غدیرِ خم پے بسر کیا |
| ہر خیال میں یہ سوال تھا، کیا یہ سلسلہ دُوسْرا کوئی |
| بولے مصطفیٰ مسلمین سے، مولا ہے علی جن کا میں نبی |
| مانتے مجھے ہو اگر نبی، ورنا ڈھونڈنا دُوسْرا کوئی |
| میرے بعد تم چھوڑنا نہیں، میری آل کو اور کتاب کو |
| چھوڑ دو اگر اِن میں ایک بھی، ہے نہ راستہ دُوسْرا کوئی |
| ختم ہو گئیں زحمتیں تمام، آج کا یہ دن ہے حسیں جمال |
| پورا کر دیا رب نے دیں ترا، اب نہ مُدَّعا دُوسْرا کوئی |
| تھا مگر وہاں مُنکرِ خدا، جس نے شک کیا اور فنا ہوا |
| دیکھ کر عَذاب اِخْتِلاف کا، پھر نہیں اُٹھا دُوسْرا کوئی |
| باقرِ گدا کی ہے یہ صدا، کون ہے مرا مرتضیٰ سِوا |
| کس کو حالِ دل میں سناوں گا، ہے نہ آسرا دُوسْرا کوئی |
معلومات