| شرابِ ناب و تُند کا نہ عرقِ نشہ وار کا |
| میں تو ہوں پیاسا محض شربتِ جمالِ یار کا |
| وہ آنکھ شرمگیں وہ مہ جبیں وہ زُلف عنبریں |
| مظاہرہ ہے قدرتِ خدا کے شاہکار کا |
| تُو اپنا ہاتھ ساقیا خدا کے واسطے نہ روک |
| پلائے جا مجھے کہ عہد آیا ہے بہار کا |
| میں پیتا ہوں میں جیتا ہوں میں جیتا ہوں میں پیتا ہوں |
| یوں سلسلہ بندھ گیا ہے اب مرے شعار کا |
| جہانِ زار میں پئے سکون اُن کا در ملا |
| وگرنہ کوئی بھی نہ تھا ٹھکانا دلِ زار کا |
| وہ ساقیِ مے خانہ ہیں تو شاہد اِس میں بُرا کیا |
| اگر بھرم وہ رکھ لیں تشنہ لب امیدوار کا |
معلومات