گزرے ہم پر عذاب لکھیں گے
عشق پر ہم کتاب لکھیں گے
لکھیں گے ہر ستم زمانے کا
اس پہ تیرا شباب لکھیں گے
سر کو چڑھتا ہے اک نشہ جن کا
ہم وہ آنکھیں شراب لکھیں گے
جو جمی ہے نمی سی پلکوں پر
جستجو وہ سحاب لکھیں گے
سیج پر جو بچھائے ہیں آنسو
ہم وہ کلیاں گلاب لکھیں گے
حرف جو آشنا نہیں تم سے
تیرا ان کو حجاب لکھیں گے
کوچے سے جو نکل کے پائی ہے
اس وفا کا حساب لکھیں گے
جاگتی شب جدائی کی شاہد
ٹوٹے ہم سارے خواب لکھیں گے

0