اس جہاں کے سب گلوں میں تو مثالِ رنگ و بو ہے
تیرے دم سے ہی تو قائم اس چمن کی آبرو ہے
تو نہیں ہو جس میں شامل وہ بھی کوئی زندگی ہے
میرا مجھ میں کیا ہے باقی اب جو ہے بس تو ہی تو ہے
ہاتھوں کے یہ تیری کنگن پاؤں کی یہ تیری پایل
صنفِ نازک تیرا چہرہ میرے ہر دم روبرو ہے
خود کو کھو یا تجھ کو پایا مجھ کو کوئی غم نہیں ہے
تو ہی میری آرزو ہے تو ہی میری جستجو ہے
دم یہ جس دم میرا نکلے تو ہی میرے روبرو ہو
ہے تمنا اتنی سی بس اتنی ہی بس آرزو ہے
اس زمانے کی نظر اب لگ نہ جاۓ ہم کو ہمدم
جو بھی اپنے درمیاں ہے اسکا چرچا کو بہ کو ہے
میرے اندر کی خموشی مجھ سے جیسے کہہ رہی ہے
تو ہی میرے روبرو ہو تجھ سے ہی بس گفتگو ہو
پھولوں میں بھی دیکھا تجھ کو سب نظاروں میں بھی پایا
ایسی صورت تو نے پائی ماہِ رو تو ہو بہ ہو ہے

0
17