سوال یوں تو بہت ہیں جواب کوئی نہیں ہے
تباہ بچوں کو کر کے خراب کوئی نہیں ہے
ہری بھری تو ہیں شاخیں چھپے انہیں میں ہیں کانٹے
ہر ایک شاخ پہ ڈھونڈا گلاب کوئی نہیں ہے
پڑھے تو کیسے پڑھے وہ کوئی کتابِ محبت
کٹار ہاتھ میں لیکن کتاب کوئی نہیں ہے
جسے یہ راج ملا ہے اسے تو یاد دلا دو
عوام کا ہے وہ نوکر نواب کوئی نہیں ہے
لگام ہاتھ میں تھامے کوئی سوار ہو کیسے
فرس ہے زین ہے لیکن رکاب کوئی نہیں ہے

0
12