اگر کبھی مجھے بارش میں شام ہوتی ہے
تو سانس رکتی ہے ،جنبش میں شام ہوتی ہے
وہ اک نگاہ بھی ڈالے تو میرا دن بن جائے
سو دن بنانے کی کوشش میں شام ہوتی ہے
سحر ہے ایک رضامند شوخ کی مسکاں
کسی حسین کی رنجش میں شام ہوتی ہے
اندھیرا ہوتا ہے زلفِ دراز کھُلنے سے
کہ جیسےجوڑے کی بندش میں شام ہوتی ہے
چمکتی صبح میں ہوتا ہے شرم سار بہت
جسے انا کی پرستش میں شام ہوتی ہے
لباسِ عجز بدلتے نہیں کبھی اپنا
ہماری ایک ہی پوشش میں شام ہوتی ہے
وہ جس میں سب سے نمایاں قمرؔ نظر آئے
اس ایک رات کی خواہش میں شام ہوتی ہے
قمرآسیؔ

0