درودِ پاک پڑھا، جب بھی ان کا نام لیا
کرم نے ان کے مرا ہاتھ تھام تھام لیا
زہے نصیب مرے لب پہ ہے درود و سلام
اسی سے دل کا سکوں میں نے ہے مدام لیا
سعادتیں مجھے بخشیں ثنائے احمد کی
خدائے پاک نے مجھ سے بڑا یہ کام لیا
حواس کھوئے ہیں ایسے کہ ہوشیار ہوا
ترے دوانے نے کیسا عجب یہ جام لیا
ترے عدو نے بھی اے حسنِ دل نواز تری
جھلک جو ایک ہی دیکھی تو دل کو تھام لیا
میں ہو بھی جاؤں گا انمول گر یہ آقا کہیں
نکما ہے تو مگر ہم نے یہ غلام لیا
حیات بخش ہے تعلیم میرے آقا کی
وہ سرخرو ہی ہوا جس نے یہ نظام لیا
ہر ایک غم سے کفایت کرے گا اس کے لیے
کہ جس نے نام محمد ہے صبح و شام لیا
کہی جو ناز نے محفل میں آج نعتِ نبی
فلک سے آکے فرشتوں نے بھی سلام لیا
شاعر: نجیب الرحمٰن ناز

0
5