حسینوں کی ادائیں دیکھتے تھے
انھیں ہم بھر کے آہیں دیکھتے تھے
ابھی تو بال بچے ہو گئے ہیں
کبھی ہم ان کی راہیں دیکھتے تھے
انہیں بھی آرزو تھی دیکھنے کی
چرا کر وہ نگاہیں دیکھتے تھے
ابھی تک ٹھنڈی آہیں بھر رہے ہو
کبھی قاتل بلائیں دیکھتے تھے
کوئی سپنوں پہ پابندی نہیں نا
اسے ہم جیسا چاہیں دیکھتے تھے
عادل ریاض کینیڈین

0
2