رازِ ہستی کی انتہا کیا ہے
ہر قدم پر یہ مرحلہ کیا ہے
ذوقِ دیدار بڑھ گیا اتنا
آئینے میں بھی وہ دِکھا کیا ہے
مٹ گئے سب نشان ہستی کے
نامِ بے نام جا بجا کیا ہے
نورِ معنی نے سوئے دل آکر
جلوۂ طور سا دیا گیا ہے
عشق آئینہ دارِ ذات ہوا
یہ خیالِ فنا بقا کیا ہے
شعلۂ شوق جب بھڑک اٹھا
خاک میں خود کو دیکھتا کیا ہے
پھول چھونے گئے تو خار ملے
یہ محبت کا سلسلہ کیا ہے

0