یہ دل میں میرے جو دل ترا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے
ہے جو بھی کچھ سب ترا مرا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے
کبھی میں معشوق اور تو عاشق، کبھی تو معشوق اور میں عاشق
یہ عشق ہم میں مِلا جُلا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے
کبھی میں دل، تو کلیم میرا، کبھی تو دل، میں کلیم تیرا
کلیم خود دل سے کہہ رہا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے
کبھی تو مجھ میں بسا ہوا ہے، کبھی میں تجھ میں بسا ہوا ہوں
یہ جو بھی کچھ یاں بسا ہوا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے
ذکؔی جو میرا ہے، سب ہے تیرا، ہے تیرا جو کچھ بھی، سب ہے میرا
بتا یہ پھر کون بولتا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے

2