| یہ دل میں میرے جو دل ترا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے |
| ہے جو بھی کچھ سب ترا مرا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے |
| کبھی میں معشوق اور تو عاشق، کبھی تو معشوق اور میں عاشق |
| یہ عشق ہم میں مِلا جُلا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے |
| کبھی میں دل، تو کلیم میرا، کبھی تو دل، میں کلیم تیرا |
| کلیم خود دل سے کہہ رہا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے |
| کبھی تو مجھ میں بسا ہوا ہے، کبھی میں تجھ میں بسا ہوا ہوں |
| یہ جو بھی کچھ یاں بسا ہوا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے |
| ذکؔی جو میرا ہے، سب ہے تیرا، ہے تیرا جو کچھ بھی، سب ہے میرا |
| بتا یہ پھر کون بولتا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے |
معلومات