اٹھا کے خود سرِ بازار رکھ دیا میں نے
ارے یہ دل کہاں بے کار رکھ دیا میں نے
مرے خلاف تھا جو شخص ایک مدت سے
اسی کو اپنا طرف دار رکھ دیا میں نے
جنونِ عشق میں معراجِ قرب کی خاطر
جگر جلا کے سرِ دار رکھ دیا میں نے
چراغِ جاں کو ہواؤں کے روبرو کر کے
فنا کے دست پہ انکار رکھ دیا میں نے
جھکا نہ تھا جو درِ غیر پر یہ سر ساغر
ترے ہی قدموں میں سرکار رکھ دیا میں نے

0
10