| اٹھا کے خود سرِ بازار رکھ دیا میں نے |
| ارے یہ دل کہاں بے کار رکھ دیا میں نے |
| مرے خلاف تھا جو شخص ایک مدت سے |
| اسی کو اپنا طرف دار رکھ دیا میں نے |
| جنونِ عشق میں معراجِ قرب کی خاطر |
| جگر جلا کے سرِ دار رکھ دیا میں نے |
| چراغِ جاں کو ہواؤں کے روبرو کر کے |
| فنا کے دست پہ انکار رکھ دیا میں نے |
| جھکا نہ تھا جو درِ غیر پر یہ سر ساغر |
| ترے ہی قدموں میں سرکار رکھ دیا میں نے |
معلومات