| آیا نیا یہ سال، پرانا چلا گیا |
| دستور ہے جہاں کا، جو آیا، چلا گیا |
| آمد پہ تیری جشن مناؤں میں کس طرح |
| وہ بھی تو تھا عزیز، جو آیا، چلا گیا |
| رہتا نہیں ہے کوئی بھی موسم سدا یہاں |
| سکھ آیا، دکھ گیا ہے، دکھ آیا، چلا گیا |
| باقی بچی جو عمر، وہ جائے نہ رائیگاں |
| کہنا پڑے نہ، بے عمل آیا، چلا گیا |
| خوشیاں رہیں نصیب، ہدایت کے ساتھ ساتھ |
| ورنہ ہر ایک سال بس آیا، چلا گیا |
معلومات