| مرے قریب ہے جو سادگی سے ملتا ہے |
| بڑا وہ شخص ہے جو عاجزی سے ملتا ہے |
| جو اپنے دل کی عدالت میں سرخرو نہ رہے |
| وہ ہر کسی سے بڑی بے دلی سے ملتا ہے |
| یہ اور بات ہے لہجے میں اس کے شیرینی |
| جسے بھی ملتا ہے رسماً ہنسی سے ملتا ہے |
| نہ کوئی شکوہ گلہ ہے نہ ہے کوئی الزام |
| وہ اب تو جیسے فقط خامشی سے ملتا ہے |
| میں اس کے ہاتھ کی ٹھنڈک کو کیا سمجھ بیٹھا |
| وہ گرم جوشی سے دل کی خوشی سے ملتا ہے |
| عجب نہیں ہے کہ یہ رخصتی کا ہو موسم |
| وہ ہر نگاہ بڑی دلکشی سے ملتا ہے |
| تعلّقات کی پہلی مہک نہیں باقی |
| وہ اب شناسا ہے اس آگہی سے ملتا ہے |
| نہ پہلے جیسی ہے آنکھوں میں روشنی رقصاں |
| نہ پہلے جیسی وہ دیوانگی سے ملتا ہے |
| پہن کے آیا ہے تہذیب کا نقاب نیا |
| وہ عام طور پہ بے رغبتی سے ملتا ہے |
| نہ طارِق اس کے تبسم پہ اعتبار رہا |
| “وہ آج کل بڑی شائستگی سے ملتا ہے” |
معلومات