| بھلا کیوں آپ گھبرائے ہوئے ہیں |
| یہ قصے جھوٹ بنوائے ہوئے ہیں |
| انہی کے ہاتھ سے اٹھیں فصیلیں |
| عمارت میں جو چنوائے ہوئے ہیں |
| صلیبیں اگ رہی ہیں اس زمیں سے |
| قلندر جس میں دفنائے ہوئے ہیں |
| ابھی تک زہر باقی ہے ہوا میں |
| چمن میں پھول مرجھائے ہوئے ہیں |
| نہیں کھاتہ کوئی جور و ستم کا |
| کرم سو بار گنوائے ہوئے ہیں |
| شکستہ ہیں کئی اپنی کمی سے |
| کئی بے وجہ ٹھکرائے ہوئے ہیں |
| نکل کر حلقۂ لطف و سخاسے |
| بہت شرمندہ پچھتائے ہوئے ہیں |
معلومات