| نجم و قمر سحاب تھے جس شب چھپے ہوئے |
| ارمان ان سے دل کے کہے سب چھپے ہوئے |
| چشمِ سیہ کی برق تو سہہ لی تھی قلب پر |
| مر ہی گئے جو دیکھے حسیں لب چھپے ہوئے |
| قربت جو دیکھی مجھ سے تری مارے بغض کے |
| ظاہر ہوئے رقیب مرے سب چھپے ہوئے |
| مصری کی ہے مٹھاس ترے لمسِ لب میں یار |
| امرت کے ذائقے ہیں دروں لب چھپے ہوئے |
| سمجھے نہیں ہیں ظاہری اطوار اب تلک |
| سمجھیں گے کیسے یار کے ہم ڈھب چھپے ہوئے |
| تاریک شب جو دیکھی تو خود کو جلا لیا |
| ہم جل بجھے تو جگنو جلے سب چھپے ہوئے |
| کہہ دی ہے سب کے سامنے تجھ سے غزل میں بات |
| شعروں میں میرے ڈھونڈ لے مطلب چھپے ہوئے |
معلومات