| غم کی دھوپ میں روزنِ دیوار بہت |
| وقت اچھا ہو تو ہوتے ہیں پھر یار بہت |
| تیری آنکھیں ہیں یا کہ سمندر ہے کوئی |
| تیری آنکھوں میں ڈوبے ہیں مے خوار بہت |
| غم کرتے ہیں نمایاں مرے شعر یہاں |
| ورنہ تو سبھی کہتے ہیں اشعار بہت |
| کوئی دل تو کوئی روح لئے پھرتا ہے |
| دیکھے ہیں ترے کوچے میں بیمار بہت |
| ہمدردی جتا میرا تماشا نہ بنا |
| ہیں اس کے لئے تو مرے اغیار بہت |
| کٹ جاتا ہے رو پیٹ کے دنیا کا سفر |
| ورنہ زندگی ہے یہاں دشوار بہت |
| ساغر رب نے دیا ہے تو اِترا کے نہ چل |
| میں نے دار پہ دیکھے ہیں سردار بہت |
معلومات