آنکھیں بہن کی ڈھونڈتی ہیں ہو کہاں حسینؑ
زینب غریب کرتی ہے رو کر فغاں حسینؑ
تیروں سے جسم ہے بھرا گرتے ہو زین سے
گرتے ہو زین سے
تیرے بدن میں گاڑی گئیں برچھیاں حسینؑ
پامال تجھ کو کر دیا گھوڑوں کی ٹاپوں سے
گھوڑوں کی ٹاپوں سے
ٹکڑے کیا ہے ظلم نے تجھکو یہاں حسینؑ
کلثوم کا ہے بین کہ عباسؑ ہو کہاں
عباس ہو کہاں
بیٹھی ہوئی ہے خاک پہ کرتی فغاں حسینؑ
بیٹی تمھاری دشت میں زخموں سے چُور ہے
زخموں سے چُور ہے
زخمی ہے رخ سکینہؑ کا خوں ہے رواں حسینؑ
خنجر ہے چلتا دل پہ جھولے کو دیکھ کر
جھولے کو دیکھ کر
اصغر کو ڈھونڈتی رہی جھولے میں ماں حسینؑ
طاقت نہیں ہے قلب میں تھرا رہی ہے ماں
تھرا رہی ہے ماں
لوٹا دو مجھ کو میرا اکبرؑ جواں حسینؑ
روتی تھیں دیکھ دیکھ کہ یہ بیبیاںؑ تمام
یہ بیبیاںؑ تمام
بیمارِ کربلا کو کبھی بیڑیاں حسینؑ
اب تک نہیں سروں سے ہٹی کربلا کی خاک
ہٹی کربلا کی خاک
آنکھوں میں ہیں خیام کا ابتک دھواں حسینؑ
مارا ہے تازیانیوں سے شمرِ لعیں نے
شمرِ لعیں نے
ٹوٹی سکینہؑ بی بی کی ہیں پسلیاں حسینؑ
ملوا دو مجھ کو بابا سے کہتی ہے رو رو کر
کہتی ہے رو رو کر
رکتی نہیں سکینؑہ کی اب سسکیاں حسینؑ
ننھے سے ہاتھ رکھتی ہے رو رو کے چہرے پر
رو رو کے چہرے پر
بچی طمانچوں کے ہے چھپاتی نشاں حسینؑ
زلفوں سے شمر نے جو گھسیٹا سکینہؑ کو
گھسیٹا سکینہ کو
ظالم ہیں ہنستے کرتی ہے جب یہ فغاں حسینؑ
آنکھوں سے خون روتی ہے سر دیکھ کے تیرا
سر دیکھ کے تیرا
تکتی ہے سر سے رستا لہو اور سناں حسینؑ
صائب پڑا ہے لاشہ وہ جلتی زمین پر
جلتی زمین پر
مظلومیت کو تیری کروں کیا بیاں حسینؑ۔

0
2