جہان بے ثبات ہے جناب دیکھیے
جھلک دکھا کے لوٹتا شباب دیکھیے
غموں کے بیچ سے خوشی کشید کیجیے
گھرا ہوا ہے کانٹوں میں گلاب دیکھیے
سہانے پل جو لد گئے وہ لوٹتے نہیں
مت ان کے لوٹنے کے آپ خواب دیکھیے
جو ذوق ہو تو سیکھنے کی حد نہیں کوئی
جہان بھر کے چھان کے نصاب دیکھیے
سبق جو سیکھتا نہیں ہے حادثات سے
سہے کا حادثات کا عذاب دیکھیے
تو پہلے من کی گندگی کو صاف کیجئے
رہیں گے پھر ہمیشہ کامیاب دیکھیے
زبان سے پہاڑ ٹوٹتے نہیں کبھی
لہو بھی مانگتا ہے انقلاب دیکھیے
عادل ریاض کینیڈین

0
8