اپنی تنہائی کو یوں آباد کر لیتے ہیں ہم
بھولی بسری اک ہنسی کو یاد کر لیتے ہیں ہم
جب کبھی سچ بولنے سے ڈرنے لگتے ہیں تو ہم
پھر سے اپنے خوف کو فولاد کر لیتے ہیں ہم
جن سے ملنے کی کوئی صورت نہیں باقی رہی
بند آنکھوں میں انہیں آباد کر لیتے ہیں ہم
جب یقینوں کی عمارت میں دراڑ آنے لگے
اپنے شک کو فکر کی بنیاد کر لیتے ہیں ہم
دیکھ کر مظلوم کی آنکھوں میں اپنی بے بسی
اپنی خاموشی کو بھی فریاد کر لیتے ہیں ہم
عمر بھر جن سے خفا رہنے کی ضد کرتے رہے
گہری تنہائی میں ان کو یاد کر لیتے ہیں ہم
جب کبھی آئینہ ہم سے سچ کہے بے ساختہ
اپنے حق میں اک نئی روداد کر لیتے ہیں ہم
جن کو اپنی زندگی کی ہر خوشی سمجھا کبھی
ان کی خاطر زندگی برباد کر لیتے ہیں ہم
شاہدؔ اپنے عیب جب خود کو نظر آنے لگیں
کتنی فرضی خوبیاں ایجاد کر لیتے ہیں ہم

0
4