یہ شہر جو روشن ہے دیکھو یہ خود ہی منور کب ہوتا
گھر میرا اگر نہیں جلتا تو ہر سو یہ اجالا کب ہوتا
کب شمع سے شکوہ ہے کوئی یا جلتے ہوئے پروانے سے
جو آگ لگی میرے گھر کو دنیا کی کدورت لگتی ہے
میں خاک نہیں اک چنگاری جو سینۂ شب میں پلتی ہے
اک مردِ عمل کی خاموشی تقدیر کے رخ کو بدلتی ہے
یہ قصر یہ رونق یہ محفل یہ رنگ یہ نغمے یہ منظر
آباد ہیں جن کی بنیادیں اک آہِ جواں کی قیمت پر
تو اپنے وجود کی شمع جلا اور خواب کو پھر پرواز بھی دے
جو راکھ پڑی ہے قدموں میں اس راکھ کو پھر آواز بھی دے
اک فرد سنبھل کر چل دے تو سو قافلے راہیں پاتے ہیں
اک دل میں یقیں بیدار ہو تو صدیوں کے اندھیرے جاتے ہیں
یہ شہر اگر روشن ہے تو اک دردِ نہاں بھی باقی ہے
ہر دور کی روشن صبحوں میں آہ و فغاں بھی باقی ہے
بس میں نے لہو سے لکھ ڈالا ہر دور کا سچا افسانہ
جو آج چراغاں کرتے ہیں کل دیں گے لہو کا نذرانہ
ساگر باطل سے نہیں ڈرتا سچ کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے
گھر ایک جلا تو شہر بسا پر وقت حساب بھی رکھتا ہے
شاعر ساگر حیدر عباسی

10